اسکائی ازدی لمیٹ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا گیا۔ سنجے گاندھی نے تمام بینکوں کو ٹیلیفون کر دیا کہ کوئی بھی گوئنکا کو پیسہ نہ دے۔ چنانچہ ایسا وقت آگیا کہ 5-10 ہزار روپیہ کی رقم بھی گوئنکا کے لیے مشکل ہوگئی۔ اسی زمانہ میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر مسٹر ملگا وکر کا چک بینک سے یہ لکھ کر واپس آگیا کہ کھاتہ میں رقم موجود نہیں۔ گھنشيام داس برلا اس وقت ملک کے نمبر ایک صنعت کار تھے۔ برلا کا تعلق کانگریس سے تھا اور گوئنکا کا تعلق اپوزیشن سے۔ مگر جب برلا کو معلوم ہوا تو وہ فوراً ان کی مدد کے لیے تیار ہوگئے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اگر وہ خود گوئنکا سے ملنے کے لیے جائیں تو یہ خبر مشہور ہوگی اور اگر گوئنکا کو اپنے یہاں بلائیں تب بھی لوگ اس کو جان لیں گے۔ اور پھر ان کے لیے گوئنکا کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ برلا نے اپنا ایک آدمی رات کے وقت گوئنکا کے پاس بھیجا۔ برلا نے اس سے کہا کہ گوئنکا کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ وہ اپنے اصول سے نہ ہٹیں، وہ اس پر پوری طرح جمے رہیں۔ جہاں تک پیسہ کا سوال ہے تو میں اس کا انتظام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ گوئنکا کے آدمی سے کہا کہ تم واپس جاؤ اور جا کر برلا جی سے کہو کہ میری ضرورت تو بہت زیادہ ہے۔ آپ کتنی رقم کی حد تک میری مدد کر سکتے ہیں۔ برلا نے کہا کہ جا کر میری طرف سے گوئنکا جی کو کہہ دو کہ : Sky is the Limit. وہ دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ کیوں کہ برلا کانگریس میں تھے اور گوئنکا کانگریس مخالف گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ گوئنکا نے برلا سے کوئی رقم تو نہیں لی مگر اس کے بعد وہ برلا کے بہت معتقد ہو گئے۔ ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد گوئنکا کا دور دورہ ہو گیا۔ اس کے بعد برلا کی سالگرہ آئی تو انھوں نے خصوصی اہتمام کے ساتھ ایک ہزار سرخ گلاب کا پھول برلا کی خدمت میں پیش کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader