چلو یہ بھی ٹھیک ہے
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
چلو یہ بھی ٹھیک ہے صغیر اسلم صاحب کا تعلق پاکستان سے ہے، اور امریکا میں بزنس کرتے ہیں۔ وہ بہت خوبیوں کے آدمی ہیں۔ ان کا ایک اصول مجھے بہت پسند آیا۔ اس کو میں اپنے لفظوں میں ”چلو یہ بھی ٹھیک ہے“ اصول کہتا ہوں۔ جب بھی کسی سے کوئی اختلافی بات پیدا ہو تو فوراً وہ یہ کہہ کر بات کو وہیں ختم کر دیتے ہیں کہ ”چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔“ یہ اصول وہی ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے۔ وسعت ظرفی مسٹر مہاویر تیاگی (وفات (1980) نے ایک کتاب لکھی اس کا نام ہے ”اب میری کون سنے گا“ آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے یہ جملہ کہا تھا۔ اسی کو مہاویر تیاگی نے اپنی کتاب کا عنوان بنا دیا۔ مہاویر تیاگی نے اس میں اپنا ایک قصہ لکھا ہے۔ مولانا محمد علی نے ایک بار کہا تھا کہ ایک گنہگار مسلمان بھی میرے نزدیک مہاتما گاندھی سے بہتر ہے۔ مہاویر تیاگی کو محمد علی کا یہ جملہ بہت ناپسند ہوا۔ انھوں نے کانگریس کی ایک میٹنگ میں اس کے خلاف اپنا رزولیوشن رکھا۔ اس میٹنگ کے چیئر مین اتفاق سے خود محمد علی تھے۔ گاندھی جی نے کہا کہ اس رزولیوشن کو پیش ہونے سے روک دیا جائے۔ محمد علی نے بحیثیت چیئر مین کہا کہ میں کسی کے کہنے سے اس کو روک نہیں سکتا۔ البتہ خود مہاویر تیاگی چاہیں تو اس کو واپس لے سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے مہاویر تیاگی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنا رزولیوشن واپس لینے پر راضی نہیں ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader