Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد گاندھی جی مہاویر تیاگی کو تھوڑی دیر کے لیے الگ لے گئے۔ انھوں نے مہاویر تیاگی سے کہا کہ اختلافی معاملہ میں بدھیوان کی بات مانی جاتی ہے یا بیوقوف کی۔ مہاویر تیاگی نے کہا کہ بدھیوان کی۔ گاندھی نے کہا کہ پھر یہ بتاؤ کہ تم زیادہ بدھیوان ہو یا میں۔ مہاویر تیاگی نے کہا کہ آپ مجھ سے زیادہ بدھیوان ہیں۔ گاندھی جی نے کہا کہ پھر میں کہتا ہوں کہ اس رزولیوشن کو واپس لے لو۔ اس لیے کہ محمد علی ہمارے دوست ہیں ۔ اور دوست کی بری بات کا بھی سہن کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد مہاویر تیاگی نے اپنا رزولیوشن واپس لے لیا۔ مغربی دنیا، مسلم ادارے 11 جون 1990ء کو نئی دہلی کے روسی سفارت خانہ سے ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مجھ کو دس روزہ پروگرام کے تحت سوویت روس بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ میں وہاں اسلام اور مسلمانوں کے حالات کو براہ راست دیکھوں، نیز یہ کہ 28 جولائی کے لیے انہوں نے میری سیٹ ریزرو کرا دی ہے۔ پچھلے 35 سال کے اندر اس موضوع پر میں کم از کم ایک سو مضامین اور کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں شائع کر چکا ہوں۔ ان تمام مضامین اور کتابوں میں ہمیشہ میں نے کمیونزم اور سوشلزم کی مخالفت کی ہے۔ ایک زمانہ میں بہت سے اسلام پسند سوشلزم کی طرف مائل ہو چکے تھے اور اس کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس نظریہ کا مخالف رہا۔ سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک "مخالف" کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page