Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

بھائی بھائی بن جاؤ، اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے، دونوں ملیں تو یہ ایک طرف ہو جائے، اور وہ دوسری طرف۔ دونوں میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلق ختم کرنا نا پسندیدہ عمل نہیں۔ اختلاف والے شخص سے سلام و کلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف (difference) انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ متعدد اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویے پر قائم رکھے۔ ایسے لوگوں کے لیے اسلام میں بہت بڑا ثواب (reward) ہے۔ بہترین انسان وہ ہے، جو اختلاف کو ڈسکشن اور ڈائیلاگ کا ذریعہ بنائے، نہ یہ کہ اختلاف کو باہمی بگاڑ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اختلاف کو تبادلۂ خیال (discussion) کا ذریعہ بنانا چاہیے، نہ کہ ترک تعلق کا ذریعہ۔ اختلاف کو دشمنی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کو ڈسنٹ (dissent) کے طور پر لینا چاہیے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، مگر سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔ اختلاف ایک مثبت ظاہرہ ایک قول بطور حدیث مختلف کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَة (کنز العمال، حدیث نمبر 28686)۔ یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو بے اصل (لَا أُصْلَ لَهُ) مانتے ہیں (المقاصد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page