Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

اخبارات کا مطالعہ میرے لیے کچھ زیادہ خوشی کا باعث نہ ہوسکا۔ اخبارات میں لفظی کشتی کا منظر دکھائی دیا۔ پنجاب کے ریاستی وزیر کی تقرریر اسلام آباد کے مرکزی وزیر کے خلاف اور مرکزی وزیر کی تقرریر پنجاب کے ریاستی وزیر کے خلاف ۔ جماعت اسلامی کے لیڈر کا بیان مہاجر لیڈر کے خلاف اور مہاجر لیڈر کا بیان جماعت اسلامی کے لیڈر کے خلاف۔ اسی قسم کی خبریں اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ اس سے یہ تو اندازہ ہوا کہ موجودہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ مگر اہل پاکستان شعوری اعتبار سے شاید ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچے کہ وہ جمہوریت کا تحمل کر سکیں۔ پاکستان ہندو اور مسلم اختلاف سے بچنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ ”خداداد ملک“ میں مسلم اور مسلم اختلاف اس سے بھی شدید صورت میں موجود ہے۔ ☆☆☆☆☆ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی طرف سے اکثر یہ الفاظ سننے پڑتے ہیں کہ تمہارے یہاں تو ستر سے زیادہ فرقے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس سے بھی زیادہ فرقے ہیں۔ امریکا کے ونسنٹ فوٹ (Vincent Foote) ایک بیپٹسٹ (Baptist) تھے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں 250 قسم کے بیپٹسٹ ہیں۔ اور مجموعی طور پر عیسائیوں میں تین ہزار فرقے ہیں۔ ابھی حال میں (35 سال پہلے) ایک نیا عیسائی فرقہ بنا ہے۔ اس کا صدر دفتر امریکا (واشنگٹن ڈی سی) میں ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Church of Scientology International حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور دوسرے مذاہب میں اصل فرقے کی کثرت کا نہیں ہے بلکہ جھگڑے کی کثرت کا ہے۔ مسلمان بات بات پر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اس لیے کم فرقہ ہونے کے باجود وہ کثرت فرقہ کے لیے مشہور ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page