Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لوگ زیادہ فرقے ہونے کے باوجود اس طرح آپس میں نہیں لڑتے، اس لیے ان کا باہمی اختلاف دوسروں کو بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ (سفر نامہ غیر ملکی اسفار) ☆☆☆☆☆ 21 نومبر 1993 کو عصر کی نماز گورنمنٹ کالونی (باند رہ، بمبئی) کی مسجد غوثیہ میں پڑھی۔ یہ ہائی وے کے عین کنارے ہے۔ نہایت وسیع اور خوبصورت مسجد ہے۔ 1974ء میں جب کہ جناب عبدالرحمن انتولے مہاراشٹر کے ہاؤسنگ منسٹر تھے، انہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ کافی نمازی جماعت میں موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ پنج وقتہ نماز اور ہفتہ وار جمعہ کی نماز کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت اہل اسلام کو عطا کی ہے۔ اس طرح ہر روز ہر علاقہ کے مسلمان روحانی مرکز کے ماحول میں ملتے ہیں۔ اس سے جو اجتماعی فائدے ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسجدوں کی تعداد ہزار گنا بڑھ گئی ہے۔ مگر مسجد کا عملی فائدہ اتنا ہی کم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ نااہل لوگ ہر مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ مسجد کو اعتقادی اختلاف، سیاسی نزاعات، حتیٰ کہ متشدار تحریکوں کا اڈہ بنا دیتے ہیں۔ یہ اللہ کی مسجدوں کا غلط استعمال ہے۔ اس غلط استعمال نے مسلم آبادیوں کو مسجد کے حقیقی دینی فائدے سے محروم کر دیا ہے۔ ☆☆☆☆☆ امریکہ کے موجودہ سفر (1988) میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (1984) نے امریکہ میں یہودیوں کی تعداد 58 لاکھ بتائی ہے۔ اس قلت تعداد کے باوجود انہوں نے اپنے تمام قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page