Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں ۔ اپنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں ۔ ان میں انفرادی سطح پر اختلافات ہیں ، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں ۔ وہ ارباب کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں ، نہ کہ اس طرح متفرق انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے ۔ ✰✰✰✰✰ ایک سفر میں فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں ۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں ۔ حتی کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں۔ فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نور میسواری (1939 Nur Misuari, b) تھے ۔ ہاشم سلامات (2003-1939 ,Hashim Salamat) ان کے نائب تھے ۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے ۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں ۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے ۔ انہوں نے نور میسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا (إِنْ لَمْ تُغَيِّرْ سِيَاسَتَكَ الْآنَ فَالْقُوْرَةُ سَتَفْشَلُ )۔ مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔ ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علاحدگی کے لیے اصولی الفاظ بولتے ہیں ، مگر اصلاً یہ قیادت کا جھگڑا ہے ۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آرہا ہے ۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں ۔ کام شروع کرتے ہیں ۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page