مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
برعکس، مغربی تعلیم یافتہ لوگ اس معاملہ میں اپنے مغربی اساتذہ کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنی اختلافی شدت کو سیکولر الفاظ اور اصطلاحات تک محدود رکھتے ہیں۔ ☆☆☆☆☆ نئی دہلی میں سینিগال کی ایمبیسی موجود ہے۔ جو صاحب اس سفر (مئی 1990ء) کے لیے سینিগال ایمبیسی میں میرا ویزا لینے کے لیے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہا کہ میں ان کو جانتا ہوں۔ ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جا رہے ہیں۔ ویزا افسر کے اس طرح ”پہچاننے“ کا سبب یہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا (10 دسمبر 1989ء) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویو ر نے میری تصویر بھی چھاپ دی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔ اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو نا جائز بتاتے ہیں، مگر یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں میں استقبال کر رہے ہیں، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہو تو دونوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندوستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندوستانی عالم اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader