Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔ ☆☆☆☆☆ پونے کے سفر (1991) میں ایک شام کو جناب عبدالصمد صاحب کی رہائش گاہ کے سامنے کھلی زمین پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے پڑھے لکھے لوگ جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک گھنٹہ کی تقریر میں میں نے بتایا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے۔ اور اتحاد پیدا ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا مزاج پیدا ہوجائے۔ اسی سفر کے دوران ایک مجلس میں حدیث رسول، صَلُّوا اخْلُفْ كُلَّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 1768) ــ یعنی نیک اور فاجر ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھو ــ کی تشریح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برے لوگوں کو لا کر امام کی جگہ کھڑا کر دو۔ اس حدیث کا خطاب حقیقتاً امام کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ مقتدیوں کی طرف ہے۔ یعنی مسجد میں کسی کو امام بنا دیا گیا۔ اب ایک شخص کے اندر خیال پیدا ہوا کہ امام کے اندر تو فلاں خرابی ہے۔ تو جس شخص یا جن لوگوں کے دل میں اس طرح کا خیال آئے انھیں اپنے اس خیال کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہیے بلکہ اس کو نظر انداز کر کے امام کے پیچھے پیچھے نماز پڑھتے رہنا چاہیے۔ ☆☆☆☆☆ اخوانی فکر کے حامل ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ امرائے المسلین سے سیاسی نزاع کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ حالاں کہ امام احمد بن حنبل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page