Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسے جلیل القدر محدث نے عباسی حکومت سے نزاع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا حوالہ درست نہیں۔ امام احمد نے کبھی بھی عباسی حکومت سے سیاسی نزاع نہیں کی۔ یعنی انہوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ وہ عباسی خلافت کو توڑ کر نیا سیاسی نظام بنائیں۔ ان کا اختلاف صرف ایک مخصوص اعتقادی مسئلہ میں تھا۔ اس کے آگے ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔ ☆☆☆☆☆ کراچی (چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبدالرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انہوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انہوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انہیں ٹوکا اور کہا: جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔ جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت رد عمل ہوا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ چونکہ علما اور قرآء نے اختتام تلاوت پر صدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ لہذا اس تواتر عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن (نومبر، دسمبر 1989) میں دو قسطوں میں چھپا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی رد و کد ہوئی۔ یہاں تک کہ حکمت قرآن (مارچ 1990) میں مدیر محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دور اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوت قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتام تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page