مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔ ☆☆☆☆☆ 1984 کے مدینہ کے سفر میں بعض اشخاص نے عالم اسلام کے دینی مدارس کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں اور دوسرے ملکوں میں جو اسلامی ادارے قائم ہیں وہ اپنے اعلان کردہ مقصد کے برعکس نتائج پیدا کر رہا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کا نظام جدلی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کے یہاں سارا زور اساسیات کے بجائے جزئیات پر ہے۔ ان میں سے کسی کا زور اعتقادی اختلافات پر ہے، کسی کا فقہی اختلافات پر اور کسی کا سیاسی اختلافات پر۔ اب چوں کہ جزئیات میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں کے ماحول میں جس کی تربیت ہوتی ہے وہ اختلافات کا ماہر ہو کر نکلتا ہے۔ ☆☆☆☆☆ 28 ستمبر کو ظہر کی نماز قاہرہ کی مسجد ابی بکر الصدیق (شارع عبدالعزیز فہمى) میں پڑھی۔ اس پر تعمیر کا سن 1957 لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر تھا۔ اس میں میز کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ اس قسم کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader