مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارے میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اس پر عمل کرلو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کرلو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہا نے کہا کہ الحق لا یتعدد (حق کئی نہیں ہو سکتا)۔ اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اس بنا پر وہاں توسع کا مزاج پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، برصغیر ہند میں فقہا کا نقطہ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطہ نظر ہی درست ہے۔ اور اگر عرب دنیا کی طرح برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آ جائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ 29 ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری پاشا) میں پڑھی۔ یہ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ اور علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں۔ البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader