مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا فتویٰ دیا ہے وہ مباح الدم ہے، اس کو ذلت کے ساتھ قتل کر دینا چاہیے۔ مگر امریکہ میں یہ فتویٰ چھپ رہا ہے اور انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں وہ تقسیم کیا جا رہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرنے والا نہیں ۔ ہندوستان اور امریکہ کا یہی فرق ہے جس نے ایک ملک کو مسلمانوں کے لیے فساد کا ملک بنا دیا ہے اور دوسرے کو امن کا ملک۔ ☆☆☆☆☆ 4 مارچ 1984ء کو مدینہ کے سفر میں ایک صاحب عبد القادر النماری (الجائر) نے انٹرویو لیا۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دیے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا کہ میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے۔ عبد القادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی ( نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے ۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انہیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔ ☆☆☆☆☆ 13 اکتوبر 1990ء کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 720 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ 4 اکتوبر کو صبح ساڑھے چار بجے کراچی پہنچا۔ یہاں ٹرانزٹ مسافر کے طور پر دو دن قیام رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader