مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
14 اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر 7) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل ادا کر رہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیر ضروری طور پر جاری کیے ہوئے ہیں اور اسلام کی نمائندگی کے لیے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول کرلے۔ دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اور سادہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوں کی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔ ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندو لڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ایک استاد نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انہوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study) کا رواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب علم مل کر مطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔ کراچی کے روزنامہ جنگ (3 اکتوبر) میں ”جنگ الیکشن سیل“ کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا اس میں 1988ء میں ہونے والے الیکشن کی ان 34 نشستوں کا ذکر تھا جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader