مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کول گئے ہیں۔ ان جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگار نے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی 34 ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی 34 نشستیں کھوئیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر 34 نشستیں کھو دیں۔ اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔ ☆☆☆☆☆ اندور، مدھیہ پردیش کے سفر (مئی 1993ء) میں اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے رکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں ”مدھیہ پردیش شاسن“ کا ہندی کا کیلنڈر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحہ پر دو تاریخیں درج تھیں۔ کھلے ہوئے صفحہ پر ایک طرف ”مئی 1993ء“ لکھا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف ”ویشاکھ۔ جیٹھ 1915“ درج تھا۔ یہ کیلنڈر اگر کسی مسلم ادارہ نے چھاپا ہوتا تو اس پر ”مئی 1993ء“ کے ساتھ ”ذی الحجہ 1413ھ“ چھپا ہوا ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader