مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے سوچا کہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو بڑھا کر دو قومی نظریہ کا پر چار کیا گیا۔ اور ملک کا بٹوارہ کرایا گیا۔ اور اب دوبارہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو لے کر ہمارے لیڈر باہمی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ فرق یا اختلاف کسی انسان کے گھڑے ہوئے نہیں ۔ وہ فطرت کے نقشۂ تخلیق پر مبنی ہیں جن کو نہ انسان نے بنایا اور نہ وہ ان کو بنانے پر قادر ہے۔ مثلاً فطرت کا نظام یہ ہے کہ سورج الگ طریقہ سے گردش کرتا ہے اور چاند الگ طریقہ سے ۔ اگر خود فطرت میں یہ فرق نہ ہوتا تو ایک سے زیادہ کیلنڈر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اس اختلاف کو تنوع سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو دو انسانی گروہوں میں ٹکراؤ کا آشوب بنایا جائے۔ ☆☆☆☆☆ ایک انٹرفیّھ پروگرام میں میں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ روزانہ کی زندگی میں گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہم طرح طرح کے اختلافات سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہاں ہم کیا کرتے ہیں۔ وہاں ہم برداشت کے اصول پر عمل کر کے زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی اختیار کرنا ہے۔ یعنی مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود ٹالرنس (tolerance)۔ ☆☆☆☆☆ ایک مجلس میں بات چیت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا میں جو ہندومسلم معاملہ ہے اس کا بہت کم تعلق نام نہاد انتظامیہ سے ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق مسلم عوام اور ہندو عوام سے ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات پیدا کریں اور لوگوں کو یہ نصیحت کریں کہ وہ اختلافی معاملات میں صبر وضبط اور حکمت و تدبیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader