Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کام لیں، نہ کہ جوش اور اشتعال مزاجی سے۔ اس کے سوا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ تباہ کن ثابت ہوگا۔

ایک مرتبہ سیوا گرام کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ وہاں پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے میں نے یہ کہا کہ دیش کی ترقی کے لیے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پر امن طور پر طے کر لینا: Peaceful resolution of conflicts. اس مقصد کے لیے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہوگا۔

مالٹا کے سفر (1991) میں ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجیے ۔ اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکھیے: I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page