مشاہدات دنیا
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
کینیڈا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینیڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچر لزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ یہ اسی قومی یکتا کے لیے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹیگریشن (National integration) کہا جاتا ہے۔ مگر مجھے کینیڈا کی اصطلاح، ہندوستان کی اصطلاح سے زیادہ پسند آئی۔ ہندوستان کی اصطلاح میں بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان یک جہتی کو کلچرل یکسانیت کے ذریعہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ جبکہ کینیڈا کی اصطلاح واضح طور پر کلچرل تعدد کو تسلیم کرتے ہوئے سماج کے اندر ہم آہنگی لانا چاہتی ہے۔ جس طرح ہندوستان میں مختلف تہذیبی گروہ ہیں، اسی طرح کینیڈا (اور دوسرے ملکوں) میں بھی مختلف تہذیبی گروہ ہیں۔ اس اختلاف کو اتحاد میں تبدیل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ خود اختلاف کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔ اس کا راز صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کو بطور واقعہ تسلیم کیا جائے اور اسی کے ساتھ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ باہمی طور پر رواداری اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ ⭐⭐⭐⭐⭐ ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیر انتظام پونے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو 24 نومبر سے یکم دسمبر 1996 ء تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفرس میٹ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھرم ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader