Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے ۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پر امن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ ☆☆☆☆☆ ممبئی (ممبئی) کے سفر میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ”ہند و تعصب“ کا ذکر کیا۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ دیکھیے، ممبئی میں جمعہ کی نماز میں کچھ مسجدوں میں نمازی زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ سڑک پر صف بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہندو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو وارننگ دے رہے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنا بند کرو، ورنہ ۔ میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اختلاف اور دشمنی کے وقت بھی انصاف سے کام لو۔ اس لیے اس معاملہ میں آپ لوگوں کو انصاف والی بات کہنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اسی ملک میں پچاس سال سے یہ ہورہا ہے کہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مسلمان جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو ہندو مسافر کھڑے ہو کر جگہ خالی کر دیتے ہیں تا کہ مسلمان سہولت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اگر آپ کو اس شبہ ہو تو تبلیغی جماعت کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لیجیے ۔ اب سوچیے کہ وہی ہندو جو روزانہ ٹرین میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے وہی سڑک پر نماز پڑھنے کو کیوں نا پسند کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرین میں آپ کو نماز کی جگہ دینے سے اس کا سفر بھنگ نہیں ہوتا۔ جب کہ سڑک پر آپ کی نماز سے اس کا سفر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page