Urdu book · حکمتِ اختلاف

مشاہدات دنیا

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

بھنگ ہوتا ہے۔ سڑک سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سڑک کے ادھر اور اُدھر اس وقت تک رکے رہنا پڑتا ہے جب تک آپ نماز ختم کر کے سڑک کو خالی نہ کر دیں۔ اس لیے آپ یوں کہیے کہ جو نماز ہندو کی زندگی میں خلل نہ ڈالے اس کا وہ سواگت کرتا ہے، البتہ وہ اس نماز کا مخالف ہے جس سے اس کی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہو۔ ☆☆☆☆☆ دسمبر 1992 میں شانتی یاترا کے تحت میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شری رام پور (مہارشٹرا) میں پہنچا۔ لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ 6 دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی اور پھر خونین فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فورا ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسب قاعدہ چادر چڑھائی۔ اس طرح انھوں نے فساد کے بم کو ڈے فیوز کر دیا۔ یہ واقعہ 17 دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔ اسی یاترا کے تحت 17 دسمبر کی شام کو ہم نوا سا پہنچے۔ یہاں پدیا ترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوگا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔ میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتاتا ہوں۔ ایک یہ کہ۔ دوری کو دور کیجیے۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page