Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

ہانپتے ہوئے کہتا ہے کہ پیاس لگ رہی ہے، پانی لاؤ۔ اب اس کے سامنے پانی لایا جاتا ہے۔ وہ کھڑے کے کھڑے وہیں پینے لگتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پانی پیو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب دو قسم کا حکم ہے تو لازماً ایک مطلوب ہوگا اور دوسرا غیر مطلوب۔ حالانکہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ یقیناً بعض اوقات اس بنا پر بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دونوں حکم مطلوب ہوتے ہیں، کوئی حکم ایک قسم کے حالات میں، اور کوئی حکم دوسرے قسم کے حالات میں۔ 9 اپریل 1983 حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 18516)۔ یعنی اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں گے۔ دوسری روایت یہ ہے : اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر (39)۔ یعنی، میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اہل علم کی ایک تعداد نے دوسری روایت کو موضوع یا کم از کم غیر معتبر بتایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی اسناد کمزور ہیں۔ نیز یہ کہ ان میں تضاد ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اختلاف رحمت ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اتفاق زحمت ہے (لَوْ إِلا اِخْتِلافُ رَحْمَةً كَانَ، لَكَانَ الإِتِّفَاقُ سُخْطاً) الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم، جلد 5، صفحہ 64۔ مگر ابن حزم اور دوسرے حضرات کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں اختلاف دو الگ الگ معنوں میں ہے۔ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اپنے آخری معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے اور دوسری روایت میں صرف ابتدائی معنی میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اختلاف میں اصرار کی حد تک جانے کے معنی میں ہے اور دوسری روایت میں مجرد اظہار اختلاف کے معنی میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page