Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

جس معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی ہو، اس کے ساتھ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود انھیں ہر حال میں جماعت کے ساتھ متحد رہنا ہے، ایسے ماحول میں اختلاف رحمت بن جاتا ہے۔ مگر جہاں ہر آدمی اپنی رائے پر اصرار کرنے لگے، اختلاف کے بعد وہ کسی طرح متحد ہونے کے لیے تیار نہ ہو تو ایسے ماحول میں اختلاف صرف بربادی تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ پہلے اختلاف کی ایک حد ہے۔ اور وہ حد یہ ہے کہ جب تک وہ رحمت کا باعث ہے، اس وقت تک اختلاف، اس کے بعد اختلاف نہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا اختلاف کسی حد کو نہیں جانتا۔ وہ شروع ہونے کے بعد برابر جاری رہتا ہے، خواہ اس کے بعد مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آپس میں لڑنے لگیں۔ 18 اپریل 1983 میں نے ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آئی کہ اختلاف (difference) برا نہیں، البتہ مخالفت (opposition) برا ہے۔ اختلاف ایک طبعی امر ہے اور وہ اسلام کے دور اول میں ہی موجود تھا، مگر وہ مخالفت تک نہیں پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف روانہ کیا تو بتاکید فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھنا— لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے اس حکم کے الفاظ کو لیا اور بنو قریظہ میں پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس کو معنی پر محمول کیا اور اس کو تیز قدمی (الاسراع لبلوغ الھدف) کے معنی میں لیتے ہوئے راستہ میں نماز پڑھلی۔ اور رسول اللہ نے دونوں کی تصدیق فرمائی۔ یہ واقعہ (اور اس طرح کے دوسرے واقعات) اس کا کھلا ہوا ثبوت تھے کہ بعض امور میں تنوع ایک فطری امر ہے، اس لیے ان میں توحد پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page