تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہیے ۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ ( خاص طور پر فقہا) اس حقیقت کو ملحوظ نہ رکھ سکے ، اور امت میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ صحابہ اور تابعین تک یہی صورتِ حال قائم رہی۔ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز اس امت میں آخری قابلِ ذکر شخص تھے جو اس راز کو جانتے تھے : فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ الْقَيِّمِ فِي إِعْلَامِ الْمُوَقِّعِينَ عَنْ سَيِّدِنَا عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي 100 مَسْأَلَةٍ، وَذَكَرَ عَدَدُ مِنَ الْمُؤَلِّفِينَ فِي تَارِيخ التَّشْرِيعِ الإِسْلَامِي السَّايس السبكي البربري ، أَنَّ هُنَاكَ عِشْرِينَ مَسْأَلَةً اخْتُلِفَ فِيهَا الصَّحَابَةُ. لَمْ يَسْتَنْكِرْ أَحَدٌ هَذَا الْخِلَافَ، إِنَّمَا اعْتَبَرَهُ الْجَمِيعُ أَمْرًا طَبِيعِيًّا لَا يَقْطَعُ وُدًّا وَلَا يُفَرِّقُ صَفًّا . وَلِهَذَا أَيَّدَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَمَا يَذْكُرُ الشَّاطِبِيُّ فِي الاِعْتِصَامِ ، وَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ لا يَخْتَلِفُونَ ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا لَكَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ، وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ. فَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ لَكَانَ سُنَّةً ۔ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک سو مسائل میں باہم اختلاف تھا۔ تاریخ تشریع اسلامی نے مصنفین سے 20 مسائل شمار کیے ہیں جن میں صحابہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے۔ اس اختلاف کو کسی نے بھی برا نہیں مانا۔ تمام لوگوں نے اس کو طبعی معاملہ سمجھا جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوئی اور نہ جماعتی انتشار پیدا ہوا۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کی تائید فرمائی ہے۔ جیسا کہ شاطبی نے لکھا ہے، انھوں نے کہا : مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ کرتے۔ اس لیے کہ اگر صرف ایک ہی قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے ۔ اور صحابہ ہی وہ رہنما لوگ ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے ۔ ان کے اختلاف کی وجہ سے یہ ہے کہ آدمی ان کے جس قول کو بھی لے لے وہ سنت ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader