Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

شیخ تاج الدین سبکی (وفات 1270ء) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیۃ الکبریٰ میں لکھا ہے کہ امت کے ہر امام کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ لوگوں نے ان کو نشانہ ملامت بنایا، اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے ـــ مَـا مِنْ إِمَامٍ إِلاَّ وَقَدْ طُعِنَ فِيهِ طَاعِنُونَ، وَهَلَكَ فِيهِ هَالِكُونَ (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ للسبکی، جلد 2، صفحہ 9)۔ ایک چیز ہے اختلاف رائے اور دوسری چیز ہے طعن۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کرنا عین جائز بلکہ مفید ہے۔ مگر بے دلیل الزام لگانا اور شخصی عیب جوئی کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کا نام طعنہ زنی ہے۔ اور وہ بلاشبہ ایمان کے منافی ہے۔ ہر زمانہ کے امام (بڑی شخصیتوں) کے ساتھ طعنہ زنی کیوں کی گئی۔ اس کا واحد سبب حسد ہے ۔ انسان اپنے سوا کسی اور کو بڑا ماننا نہیں چاہتا، اس لیے جب وہ کسی کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی عیب جوئی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔ جس سے وہ حسد کرتا ہے اس کو وہ عملی طور پر چھوٹا نہیں کر پاتا تو لفظوں میں اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منفی نفسیات کے زیر اثر وہ بھول جاتا ہے کہ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر رہا ہے، نہ کہ کسی دوسرے کو۔ 5 جولائی 1983 حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف رائے تھا (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد 2، صفحہ 167) ـــ دونوں اپنی اپنی رائے پر مصر بھی تھے۔ اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ ”ابن مسعود علم و فقہ کا خزانہ ہیں“ ـــــ كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهاً وعلماً (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 2، صفحہ 297) ۔ اور جب حضرت عمر شہید ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا: عمر اسلام کا مضبوط قلعہ تھے۔ جو اس میں داخل ہوتا وہ باہر نہ جاتا۔ جب وہ نہ رہے تو اسلام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page