تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
قلعہ میں دراڑ پڑ گئی— اِنَّ عُمَرَ كَانَ لِلْإِسْلَامِ حِصْنًا حَصِينًا، يَدْخُلُ فِيهِ الْإِسْلَامُ وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ (مصنف ابن ابی شیبہ، اثر نمبر 31977)— امام احمد بن حنبل خون نکلنے کو ناقض وضو سمجھتے تھے۔ دوسری طرف امام مالک اور سعید بن مسیب کا مسلک تھا کہ ایک شخص وضو کرے اور کسی وجہ سے اس کے بعد اس کے جسم سے خون نکل آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ اسی سابقہ وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس اختلاف کی روشنی میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ ”اگر وضو کے بعد امام کے جسم سے خون نکل آئے اور وہ دوبارہ وضو کے بغیر نماز پڑھائے تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔“ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا: میں مالک بن انس اور سعید بن مسیب کی اقتدا میں کیسے نماز ادا نہ کروں (المغنی لابن قدامۃ، جلد 1، صفحہ 247)— اسی طرح امام ابو یوسف خون نکلنے کی صورت میں وضو کے جاتے رہنے کے قائل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہارون رشید نے نماز پڑھائی جب کہ اس نے وضو کے بعد پچھنا لگوایا تھا۔ مگر امام ابو یوسف نے اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے ہارون رشید کے پیچھے نماز ادا کر لی اور پھر اس کو نہیں دہرایا۔ اس سے اجتماعیت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ”امام“ سے اگر ایسا فعل صادر ہو جو مقتدی کے نزدیک نماز کو فاسد کر دینے والا ہو، تب بھی مقتدیوں کو اپنی نیت کے مطابق اس کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیے— حتیٰ کہ بعد کو اپنی نماز کو دہرانا بھی نہیں چاہیے۔ کیوں کہ نماز کا دہرانا بھی غیر ضروری خلفشار کا باعث ہو سکتا ہے۔ محمد بن اسحاق تابعی (150-85ھ) قدیم ترین سیرت نگار ہیں۔ ان کی اصل کتاب اگر چہ اب موجود نہیں، مگر ابن ہشام کی موجودہ سیرت میں ان کی پوری کتاب شامل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader