Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

ابنِ اسحاق علم الانسحاب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے اپنی معلومات کے مطابق امام مالک کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطّا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج میں ہوں — اِئْتُونِی بِہِ فَأَنَا بِیْطَارُہٗ ۔ یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے — ھٰذَا دَجَّالٌ مِنَ الدَّجَّالِیْنَ، یُرْوِی عَنِ الْیَہُودِ ) الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 382 ۔ ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر، قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے، جن کے آباء واجداد مسلمان ہوگئے تھے ۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ) الثقات لابن حبان جلد 7، صفحہ 383-382 )۔ امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں سمجھا۔ دورِ اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی قسم کی کوئی چیز باقی نہیں۔ حج کے ارکان حنابلہ کے نزدیک چار ہیں: اِلْاِحْرَامُ، وَالْوُقُوْفُ بِعَرَفَةَ، وَطَوَافُ الْإِفَاضَةِ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ۔ شافعیہ کے نزدیک حج کے ارکان پانچ ہیں۔ چار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page