تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
مندرجہ بالا اور پانچواں: اَلْحَلْقُ وَالتَّقْصِیرُ۔ احناف کے نزدیک حج کے ارکان صرف دو ہیں: اَلْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ، وَمُعْظَمُ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ۔ یہ تو صرف بڑے اختلاف کی مثال ہے۔ ورنہ حج کی تفصیلات (اور اسی طرح دوسری عبادتوں کی تفصیلات) میں بے شمار اختلافات ہیں، جن کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے۔ میرے نزدیک یہ سب غیر ضروری ہے۔ مثلاً مذکورہ فرق کو لیجیے ۔ فقہا کے درمیان اگرچہ ارکان حج کی تعداد مقرر کرنے میں اختلاف ہے، تاہم اس میں سب متفق ہیں کہ مذکورہ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا ترک بھی حج کو باطل کر دیتا ہے ـــ كُلُّهُمْ مُتَّفِقُونَ عَلَى أَنَّ تَرْكَ رُكْنِ مِنْ أَرْكَانِ الْحَجِّ يُبْطِلُ الْحَجَّ۔ جب حج کی صحیح ادائیگی کے لیے مذکورہ تمام ارکان پر عمل کرنا ضروری ہو تو پھر غیر ضروری فنی بحثیں نکال کر ان کی تعداد میں فرق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 29 اکتوبر 1984 خلیفہ منصور عباسی نے حج کیا تو دیکھا کہ لوگ طرح طرح سے مراسم حج ادا کر رہے ہیں۔ اس نے چاہا کہ امام مالک کی کتاب کی بہت سی نقلیں تیار کر کے تمام بلاد و امصار میں روانہ کرے اور لوگوں کو ہدایت کر دے کہ وہ اسی کتاب (موطا) کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ خلیفہ نے جب اپنے اس ارادہ کا ذکر امام مالک سے کیا تو انھوں نے کہا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَفْعَلْ هَذَا (طبقات ابن سعد، جلد 7، صفحہ (573) ۔ یعنی، اے امیر المومنین ایسا نہ کیجیے۔ اس کے بعد خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا۔ اس نے بھی سفر حج میں مذکورہ منظر دیکھا تو مدینہ پہنچ کر دوبارہ امام مالک سے وہی بات کہی جو خلیفہ منصور نے کہی تھی۔ امام مالک نے دوبارہ جواب دیا: لَا تفعل فَإِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي الْفُرُوعِ وَتَفَرَّقُوا فِي الْبُلْدَانِ وَكُلُّ مُصِيب (الميزان الكبرى للشعرانی، جلد 1، صفحہ (215) ۔ یعنی، اے امیر المومنین ایسا مت کیجیے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعی امور میں مختلف تھے اور وہ شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک درست ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader