تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظر انداز کر کے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جولوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ جولوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں ، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔ 27 جنوری 1986 پروفیسر علی اشرف (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: میں ہر مہینہ باقاعدہ الرسالہ پڑھتا ہوں۔ اس سے پہلے 1980 ء میں آپ کی تمام کتابیں خرید کر پڑھ چکا ہوں۔ بعض کتابیں ایک سے زیادہ بار بھی پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تحریروں میں جو فکر پیش کیا ہے اس سے مجھے صد فی صد اتفاق ہے۔ اب تک کے مطالعے میں مجھے آپ کی صرف ایک بات کھٹکی ہے اور وہ آپ کا وہ مضمون ہے، جس کا عنوان ہے: حسنین: تاریخ کے دو علامتی کردار (ظہور اسلام، صفحہ 90)۔ اس مضمون کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا آپ یہ تلقین کر رہے ہیں کہ انسان کو برائی کے مقابلے میں کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو برائی کے مقابلے میں اپنا سر جھکا کر بیٹھ جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مجھے برائی کے خلاف اقدام کرنے پر اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسے اقدام پر اعتراض ہے جب کہ اقدام سے نقصان ہو جائے مگر برائی وہیں کی وہیں باقی رہے۔ میں نے کہا کہ میرا اختلاف برائی کے خلاف اقدام سے نہیں ہے بلکہ میرا اختلاف ایسے اقدام سے ہے جو نتیجہ خیز ہونے والا نہ ہو۔ قبل از وقت اقدام یا تیاری کے بغیر اقدام ہمیشہ بے فائدہ ہوتا ہے۔ اور اقدام کی یہی وہ قسم ہے جس سے مجھے اختلاف ہے۔ برائی کے خلاف عملی اقدام صرف اس وقت کرنا چاہیے جب کہ اقدام کے ضروری اسباب فراہم ہو گئے ہوں۔ بصورتِ دیگر برائی کے خلاف نصیحت اور تلقین کی سطح پر کام کیا جانا چاہیے، نہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader