تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
عملی اقدام کی سطح پر۔ پروفیسر علی اشرف صاحب نے میری اس وضاحت سے اتفاق کیا۔ ڈاکٹر عبد الاحد صاحب (بنگلور) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ الرسالہ کے قاری بھی ہیں اور دس پرچہ منگا کر تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے بعض قارئین کا کہنا ہے کہ الرسالہ میں تنقید نہیں رہنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ تنقید تو کسی قوم کی زندگی کی علامت ہے۔ صحابہ کرام عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے۔ مثلاً حضرت ابن عمر نے ایک بار حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں کہا: کَذَبَ أَبُو ھُرَیْرَة (قبول الاخبار ومعرفة الرجال لابي القاسم بلخی، جلد 1، صفحہ 184)۔ یعنی، ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا۔ اس جملے کو اگر خالص لفظی معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابو ہریرہ ساقط الرواية ہیں۔ کیوں کہ جو شخص جھوٹ بولے اس سے روایت نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف شدت کلام ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرنے میں کتنے شدید الفاظ استعمال کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنة، حديث نمبر 39)۔ اس حدیث میں لوگ اختلاف کو انتشار کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ اس لیے انھیں اس کی تاویل میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت لینے کے قابل نہیں ہے۔ مگر اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اس حدیث میں اختلاف کا لفظ انتشار کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف رائے (dissent) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب ہے، ایک رائے کی جگہ دوسری رائے کو دلیل کے ذریعے پیش کرنا ہے، نہ کہ مختلف گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اختلاف رائے کی فضا کا ہونا کسی قوم کے لیے رحمت ہے۔ جس قوم میں اختلاف رائے ہوگا اس کے اندر جمود نہیں ہوگا۔ اگر ان کے اندر کوئی غلطی واقع ہوگی تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader