Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بذریعہ تنقید اپنی اصلاح کرتی رہے گی۔ کسی غلط روش کا برقرار رہنا اس کے اندر ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے اندر یہ ذہن ہوگا کہ چیزوں کو ان کے جوہر (merit) کی بنیاد پر اہمیت دی جائے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ موجودہ دور میں سائنس کی ترقی اسی اختلاف کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کے درمیان اختلاف رائے اگر ممنوع ہوتا تو کبھی سائنس ترقی نہ کرتی۔ 26 اپریل 1986 مولانا کبیر الدین فاران (ہماچل پردیش) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ذہین آدمی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے۔ مجھے کسی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو میں فوراً اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ مزاج بذات خود صحیح مزاج ہے۔ مگر مسلمان عام طور پر ”اختلاف رائے“ اور ”اختلاف امر“ میں فرق نہیں کرتے۔ اختلاف رائے یعنی سوچ کا فرق اور اختلاف امر یعنی عملی مخالفت۔ میرے نزدیک اختلاف رائے ایک جائز عمل ہے، مگر اختلاف امر بالکل ناجائز ہے۔ اختلاف رائے اور اختلاف امر میں فرق کی مثالیں اصحاب رسول کے یہاں بھی موجود ہیں۔ حضرت عثمان کے زمانے میں صحابی رسول ابو ذر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے۔ وہاں ان کو معلوم ہوا کہ خلیفہ ثالث عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے دوران چار رکعتیں پڑھی ہے، قصر نہیں کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے سخت الفاظ میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابو بکر وعمر کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے کہا: آپ نے امیر المومنین پر چار رکعت کے لیے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: اِنَّ الْخِلَافَ أَشَدُّ (مسند احمد، حدیث نمبر 21460)۔ یعنی عملی مخالفت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسی قسم کا واقعہ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔ انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page