تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
عثمان رضی اللہ عنہ کے منیٰ میں چار رکعت پڑھنے پر بہت ہی سخت الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر خود چار رکعت پڑھی۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا : اختلاف کرنا برا ہے (اِلْخِلَافُ شَرّ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1960۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں رائے کے معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ امر اور نظم (system) سے اختلاف کرنا بھی ان کے لیے درست ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں سے کوئی متحدہ کام نہیں ہو پاتا۔ حدیث "اِخْتِلَافُ اُمَّتِي رَحْمَةٌ" (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، حدیث نمبر (39) کا مطلب بھی یہی ہے۔ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث میں اختلاف رائے کے اظہار کورحمت کہا گیا ہے، نہ کہ عملی اختلاف وانتشار کو۔ افراد کو ہر کام میں اجتماعی نظم کا پابند رہنا چاہیے۔ البتہ اختلاف رائے کو مثبت طریقے سے ظاہر کرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی پابندی نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے رائے کے معاملہ میں اختلاف کر سکتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ 23 جون 1986 مجھے اپنی زندگی میں بار بار ایک ہی تجربہ ہوا ہے۔ اس تجربہ میں ابھی تک کوئی استثناء ثابت نہ ہوسکا۔ مزید یہ کہ تجربات کی اس لمبی مدت میں اکابر کے نام بھی موجود ہیں اور اصاغر کے نام بھی۔ وہ تجربہ یہ ہے کہ ایک شخص ابتدائی تعلقات میں میرے ساتھ خوش اخلاقی برتتا ہے، وہ بڑے بڑے الفاظ میں میرا اعتراف کرتا ہے، وہ میرے مشن میں بھر پور ساتھ دینے کا اقرار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب تعلقات بڑھتے ہیں اور کوئی اختلافی بات سامنے آتی ہے یا کسی وجہ سے اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہی آدمی دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔ میری تعریف کرنے والا میری برائی کرنے لگتا ہے۔ میرا ساتھ دینے والا میرا دشمن بن جاتا ہے۔ جو شخص پہلے میرے مقابلے میں خوش اخلاقی کا پیکر تھا، اب وہ میرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader