تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
مقابلہ میں بداخلاقی کا مجسمہ نظر آنے لگتا ہے۔ حتی کہ میری تخریب کاری اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اخلاق کے اعتبار سے عین اس مقام پر ہیں جہاں پہلے یہود تھے۔ معمول کے حالات میں اچھا بنے رہنا اور غیر معمول والے حالات پیدا ہوتے ہی کچھ سے کچھ ہو جانا، یہ یقینی طور پر یہودیت ہے۔ اور یہی یہودیت ہے جس پر آج کے مسلمان قائم ہیں۔ مومن مسلم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے، اور اللہ سے ڈرنے والا آدمی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ دوستی کے وقت اچھا بنارہے اور اختلاف کے وقت تخریب کاری کا نمونہ پیش کرے۔ 1989 جنوری 24 جمادی الاولی (1409ھ) میں کویت میں ایک نہایت اہم اجتماع ہوا۔ اس کی کاردائیاں کویت کے ہلٹن ہوٹل میں انجام پائیں۔ اس میں عرب سربراہ اور مسلم حکومتوں کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان سے شمس الدین پیرزادہ نے شرکت کی جن کی حیثیت وزیر کی ہے ۔ اس اجتماع میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ پیمانہ پر مجمع الفقہ الاسلامی قائم کی جائے جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہو۔ اعلان کردہ مقاصد کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ مگر یقینی ہے کہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کے ”المادۃ السابعة“ کے مطابق، مجمع الفقہ الاسلامی میں المؤتمر الاسلامی سے تعلق رکھنے والی ہر مسلم مملکت کا ایک ممبر ہوگا اور اس ممبر کا تعین متعلقہ حکومت کرے گی - يَكُونُ لِكُلِّ دَوْلَةٍ مِنْ دُوَلِ مُنَظَّمَةِ الْمُؤْتَمَرِ الْإِسْلَامِيِّ عُضْوٌ عَامِلٌ فِي الْمَجْمَعِ وَيَتَمُّ تَعْيِينُهُ مِنْ قَبِلِ دَوْلَتِهِ (صفحہ 121) ۔ جو ادارہ مسلم حکومتوں کے نامزد کردہ افراد پر مشتمل ہو، وہ یقینی طور پر ایک رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گا، وہ کوئی زندہ کام نہیں کر سکتا۔ مگر دوسری مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں کے جوغیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader