Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومتی ادارے ہیں وہ اختلافات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اجتماعی ادارے دومیں سے کسی ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ حکومت کی سرپرستی میں ہیں تو وہ رسمی ہو کر رہ گئے ہیں اور اگر وہ آزاد ہیں تو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔ 2 مارچ 1989 ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت امت کی اصل ضرورت اتحاد ہے، اور اس کے لیے آپ کچھ نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ آپ کے خیال سے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے انھوں نے کہا کہ تمام مسلم اکابر کو جمع کیجیے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہو سکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہیے تھا کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے کہا کہ پھر اتحاد کی تدبیر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لیے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں۔ صحابہ کرام بلا شبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال ہیں۔ مگر ان کا اتحاد اختلاف کے باوجود متحد ہونے کی زمین ہی پر قائم ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ حضرت عمر نے خلیفۂ اول ابوبکر صدیق کا ایک فرمان بر سر عام پھاڑ کر پھینک دیا (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 383)۔ مگر وہاں کوئی کہرام نہیں مچا۔ آج اگر کوئی شخص کسی بڑے دینی ادارہ میں جائے اور وہاں کے اکابر کی ایک کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ آج اگر کوئی شخص ایک اسلامی ادارہ میں ایسا کرے تو وہ وہاں سے نکال دیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page