Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے اندر اتحاد کی استعداد تھی، آج کے مسلمانوں میں اس کی استعداد نہیں۔ ایسی حالت میں پہلا کام ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے، نہ کہ کوئی جذباتی اشتھڑاکر کے بھیڑ جمع کرنا۔ بھیڑ اور اتحاد کے فرق کو نہ جاننے والے ہی بھیڑ پر خوش ہوسکتے ہیں۔ 16 مارچ 1989ء ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام ”باوجود“ کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں برے اخلاق کا جواب اچھے اخلاق سے دینے کا نام اخلاق ہے۔ یہاں اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا نام صبر ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ یہاں اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں۔ 14 مئی 1989ء دھولیہ (مہاراشٹر) میں مارچ 1989 میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ دھولیہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہولی کے موقع پر ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر پانی پھینکا تھا۔ مگر جب دونوں فرقوں میں جھگڑا ہو گیا تو مسلمانوں نے معاملہ کو بھیا نک بنانے کے لیے خود رات کے وقت مسجد کی دیواروں پر رنگ ڈال کر اس کورنگین کر دیا تا کہ دیکھنے والے سمجھیں کہ ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ ڈالا تھا۔ میں نے کہا کہ میں اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دیتا ہوں ۔ مگر دھولیہ والوں نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری تمام رپورٹیں، تمام کاغذات اور مقدمہ کے بیانات، سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں نے رنگ پھینکا۔ اب اگر آپ لکھ دیں کہ ہندوؤں نے پانی پھینکا تھا اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے رنگ ڈال دیا تو ہمارا کیس بگڑ جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page