Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا یہی مزاج ہے جس نے انھیں خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے اور وہ مسلسل بربادی کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کی مدد ہمیشہ سچ پر آتی ہے۔ جھوٹ پر کبھی خدا کی مدد نہیں آتی، آپ لوگ جھوٹ پر خدا کی مدد اتارنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک آپ کے اوپر نہیں اتری۔ 12 جون 1989 موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اتحاد کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اختلاف کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اس کے سبب پر غور کرتے ہوئے میری زبان سے نکلا مسلمان اتحادیوں کے ساتھ متحد ہو کر رہنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہو کر رہنے کا نام اتحاد ہے۔ اتحاد کی یہی وہ اہم ترین حقیقت ہے جس سے ہمارے اصاغر بھی نا آشنا ہیں اور ہمارے اکابر بھی نا آشنا۔ 16 جون 1989 مکہ سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطہ ہے۔ اس کے شمارہ ذوالقعدہ 1409ھ میں مدینہ کا مسجد نبوی کے امام الشیخ علی عبدالرحمن الحذیفی کا ایک خطبہ نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے وہاں کی مسجد نبوی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا: يَا أُمَّةَ الْإِسْلَامِ، لِمَاذَا الْاِخْتِلَافُ وَالدِّينُ وَاحِدٌ، إِلَى مَتَى الشَّقَاقُ وَالْأُمَّةُ وَاحِدَةٌ، إِلَى مَتَى التَّفَرُّقُ وَأَنْتُمْ تُدْرِكُونَ مَا فِيهِ مِنَ الضَّرَرِ وَالْفَسَادِ (صفحہ 6)۔ یعنی، اے مسلم امت باہمی اختلاف کیوں، جب کہ دین ایک ہے۔ باہمی جھگڑے کب تک، جب کہ امت ایک ہے۔ باہمی تفریق کب تک حالاں کہ تم جانتے ہو کہ اس میں کتنا زیادہ نقصان اور بگاڑ ہے۔ مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کے لیے اس قسم کی جذباتی اپیلیں سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے کی جا رہی ہیں۔ مگر عملی صورتحال آج اس سے بھی زیادہ خراب ہے جتنا کہ سو سال یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page