Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

پچاس سال پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آدمی یہ فرض کر کے بول رہا ہے کہ امت اسلام واقعہ میں موجود ہے۔ جب کہ خود امت اسلام سرے سے موجود نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ بھیڑ کو امت اسلام سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قدیم شہر کے کھنڈروں کو دیکھ کر سمجھنا کہ خود وہ شہر زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ دوبارہ "امت اسلام" وجود میں لائی جائے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلہ کا کوئی کام کیا جا سکتا ہے۔ 11 جولائی 1989 تفسیر قرطبی فقہی انداز کی تفسیر ہے۔ قرطبی امام مالک کے مسلک کے تھے۔ تاہم انھوں نے بعض مقامات پر امام مالک سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاً حج کے موقع پر جو رومی جمار کیا جاتا ہے، اس کے متعلق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی کنکریاں (چنے کی دال کے برابر) ماری جا سکتی ہیں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3029)۔ اس سلسلہ میں امام مالک نے کہا ہے کہ اس سے بڑی کنکری مجھ کو زیادہ محبوب ہے ۔ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ۔ قرطبی نے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امام مالک کے اس قول کے کوئی معنی نہیں ۔ وَلاَ مَعْنَى لِقَوْلِ مَالِكٍ (تفسیر القرطبی، جلد 3 ، صفحہ 11)۔ اس تنقید میں استخفاف کا عنصر شامل ہے۔ مگر کسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ موجودہ زمانہ میں تو لوگ تنقید کے بارے میں اتنے حساس ہو گئے ہیں کہ خالص علمی اور تجزیاتی تنقید بھی انھیں گوارا نہیں۔ 15 اگست 1989 آرسی زینر (R.C. Zaehner) ایک آکسفورڈ اسکالر ہیں۔ انھوں نے مختلف مذاہب کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جو 1970 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے۔ ہم آہنگ ناموافققت : Concordant Discord

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page