Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب کے مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم مختلف مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بہت سے اختلافات نظر آتے ہیں لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر بے آہنگی (disharmony) میں آہنگ (harmony) موجود ہے۔ بہت سے سیکولر علما (مثلاً ڈاکٹر بھگوان داس) نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ تمام مذاہب ظاہری اختلافات کے باوجود ایک ہیں۔ وہ اس طرح اہل مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں اس کو بے فائدہ سمجھتا ہوں۔ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کیا جائے۔ اس کی واحد کار گر تدبیر یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر رواداری (tolerance) کا مزاج پیدا کیا جائے یعنی اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور اختلاف کا اظہار سنجیدہ علمی دائرہ میں کرنا، نہ کہ مناظرہ اور تصادم کے دائرہ میں۔ اس دنیا میں امن قائم کرنے کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے، نہ کہ اختلاف کو ختم کرنا۔ اس معاملہ میں دوسری کوئی صورت سرے سے ممکن ہی نہیں۔ 1989ء 20 ستمبر جھینگا مچھلی کو عربی میں اربيان يا دود کہتے ہیں۔ کسی نادان نے مفتی صاحبان سے فتویٰ پوچھا کہ جھینگا حرام ہے یا حلال۔ مفتی کو کہنا چاہیے تھا کہ اس قسم کے سوال نہ کرو جب قرآن میں کہہ دیا گیا ہے: أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ (5:96)۔ یعنی، تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا۔ ایسی حالت میں اس قسم کا سوال غیر ضروری ہے۔ مگر مفتی صاحبان نے اس نادانی پر یہ اضافہ کیا کہ فوراً اس کے حلال و حرام کا فتویٰ دینے لگے۔ بعد کے کچھ علما نے دیکھا کہ اس معاملہ میں اصحاب فقہ کے درمیان اختلاف ہے تو انھوں نے تیسری نادانی کی۔ انھوں نے کہا کہ چوں کہ جھینگا کچھ علما کے نزدیک حرام ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page