تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اور کچھ دوسرے علما اس کو حلال بتاتے ہیں، کیوں کہ اس کو مچھلی کہا جاتا ہے، اس لیے احتیاط یہ کہ اس کو نہ کھایا جائے الدُّودُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ جَهِينْگَار، حَرَامٌ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ۔ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : حَلَالٌ، لِأَنَّهُ يُسَمَّى بِاسْمِ السَّمَكِ ، فَإِلَّا احْتِيَاطَ أَنْ لَا يُؤْكَلَ ( حاشية جلالين ، المائدة، آیت 96)۔ فقہ اور فتاوی کی کتابوں میں اس قسم کے بے شمار مسائل ہیں۔ مگر وہ سب کے سب انتہائی حد تک نامناسب اور بے معنی ۔ جن چیزوں کو خدا اور رسول نے حرام نہ کہا ہو، ان کو حرام کہنا ایسی جسارت ہے جس کے لیے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اس طرح حرام وحلال کی بحثیں نہیں کی جاتی تھیں۔ بعد کے علما ہر معاملہ میں حرام وحلال کی بحثیں کرنے لگے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے۔ 4 مارچ 1990 مولانا انیس لقمان ندوی کے ساتھ فجر کی نماز کالی مسجد (نظام الدین) میں پڑھی۔ نماز سے واپس آتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں اسلام کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہا مگر اسلام کی اصل اسپرٹ کم ہوگئی۔ میں نے مثال دیتے ہوئے چند باتوں کا ذکر کیا۔ مثلاً مکہ اسپرٹ ، حدیبیہ اسپرٹ ، اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ (کرلو، کوئی حرج نہیں) اسپرٹ ، حسن (بن علی) اسپرٹ ، وغیرہ۔ مکہ اسپرٹ سے مراد ہے یک طرفہ صبر کرتے ہوئے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچانا۔ حدیبیہ اسپرٹ سے مراد ہے مشکلات کو چھوڑ کر مواقع کو استعمال (avail) کرنا۔ اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 124) اسپرٹ یہ ہے کہ جزئیاتی مسائل کے اختلاف کو توسع کے خانہ میں ڈالتے ہوئے اصل دین پر توجہ صرف کرنا۔ حسن (بن علی) اسپرٹ یہ ہے کہ باہمی اختلاف اگر دوطرفہ بنیاد پر حل نہ ہورہا ہو تو یک طرفہ دست برداری کے ذریعہ اختلاف کو ختم کر دینا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader