Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ سے اِس روایت کی طرف اشارہ ہے: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں قیام پذیر تھے، اس وقت لوگ آپ سے مختلف مسائل کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ چنانچہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: "مجھے علم نہ ہوسکا، اور میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر دوسرا شخص آیا اور کہنے لگا: ”مجھے علم نہ ہوسکا، اور میں نے رمی سے پہلے قربانی کر دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے بھی اعمال حج کی ترتیب کے آگے پیچھے ہونے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ یہی فرمایا: اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ (صحیح بخاری، حدیث نمبر (83) یعنی، کر لو، کوئی حرج نہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے: حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کر لیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے : لَا حَرَجَ ، لَا حَرَجَ (کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں)۔ حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2015)۔ یکم اپریل 1990 میرے اندر سوچنے کی عادت ہے۔ میں اکثر کسی آیت یا کسی حدیث کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ آج نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page