تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف بالکل ایک عام بات تھی۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ التکاثر امام بخاری کے نزدیک مدنی ہے، جب کہ تمام مفسرین اس کو مکی قرار دیتے ہیں (الجامع لاحکام القرآن تفسیر القرطبی، جلد 20، صفحہ 168)۔ اس طرح کے بے شمار اختلافات ہیں۔ مگر دورِ اول میں اس قسم کے اختلاف کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف کا نام آتے ہی لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ زوال کی علامت ہے۔ 16 جنوری 1992ء امام شافعی اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ اس کے مقابلہ میں امام مالک اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ اس قسم کے اختلافات ہمیشہ استنباطی ہوتے ہیں اور استنباط میں اختلاف سے بچنا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے استنباطی امور میں یہی صحیح مسلک ہے کہ ذاتی طور پر ایک رائے رکھنے کے باوجود دوسرے کی مختلف رائے کا احترام کیا جائے۔ اسی کو ایک مشہور قول میں ان لفظوں میں کہا گیا ہے: رَأْیِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأُ يَحْتَمِلُ الصَّوَاب (الجواهر من فقہ الحنفیۃ، صفحہ 574)۔ 12 اگست 1992ء ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اجتہاد کا مزاج کھودیا ہے۔ وہ صرف تقلید کے اوپر قائم ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان عام طور پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کہ تنقید اور اختلافِ رائے سے ذہنی ترقی ہوتی ہے۔ اور جہاں تنقید اور اختلاف کا ماحول ختم ہو جائے وہاں صرف ذہنی جمود باقی رہ جائے گا اور آج مسلمان پوری طرح ذہنی جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader