تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
دار العلوم دیوبند کے تحت ایک عربی جریدہ نصف شہری ہ 16 سال سے نکل رہا ہے۔ اس کے شمارہ 25 نومبر 1992 کے صفحہ اول پر ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے: أَهْلُ الْبَاطِلِ يَتَّحِدُونَ، وَأَهْلُ الْحَقِّ يَخْتَلِفُونَ (اہل باطل متحد ہیں اور اہل حق مختلف ہورہے ہیں)۔ دو صفحہ کے اس مضمون میں بڑے جذباتی انداز میں مسلمانان عالم کے موجودہ مسائل، مثلاً فلسطین، افغانستان، برما، سری لنکا، صومالیہ، بوسنیا اور ہندوستان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ ہر جگہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ مسلمانوں کے دشمن متحد ہیں مگر مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہیں، مثلاً ہندوستان میں مسلمان بابری مسجد تحریک کے عنوان پر متحد نہ ہو سکے۔ مگر ہندو بابری مسجد رام جنم بھومی کے سوال پر متحد ہوگئے ۔ مضمون کے آخر میں کہا گیا ہے کہ یہ عجیب مسئلہ ہے کہ باطل والے باطل میں متحد ہورہے ہیں۔ مگر حق والے حق میں متحد نہیں۔ ایک معمہ ہے جس کو ہم اہل دانش کے اوپر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور اس کا حل معلوم کریں: اِنَّهَا قَضِيَّةٌ اِتِّحَادُ أَهْلِ الْبَاطِلِ فِي بَاطِلِهِمْ وَاخْتِلَافِ أَهْلِ الْحَقِّ فِي حَقِّهِمْ - قَضِيَّةٌ عَجِيبَةٌ أَوْ لُغْرُ مِنَ الْأَلْغَازِ، نَتْرُکُهُ لِلْعُقَلَاءِ أَنْ يَدُرُ سُوهُ وَيَحُلُّوهُ۔ یہ سارا معاملہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ جن مسلمانوں کو اہل حق کہا جارہا ہے، وہ دراصل اختلاف اہل حق ہیں۔ موجودہ مسلم نسلیں حقیقتاً ایک ایسا گروہ ہیں جو قرآن کے الفاظ میں قساوت اور موت کے مرحلہ کو پہنچ چکے ہیں (57:16-17)، اور جو گروہ ایسے مرحلہ کو پہنچ جائے اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو آج ہم کو نظر آ رہا ہے۔ زندہ انسان کی صفت برداشت ہے، اور مردہ انسان کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ برداشت کو کھو دیتا ہے۔ اتحاد کی لازمی قیمت برداشت ہی ہے۔ اختلاف کو برداشت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader