Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا ہے۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام حسن بصری نے کہا: وَلِلاخْتِلافِ خَلَقَهُم (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 485) یعنی، خدا نے ان کو اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔ سیاق و سباق کے اعتبار سے یہ نہایت صحیح تفسیر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ پھر جو لوگ اختلاف کو ختم کرنا چاہتے ہیں، یا اختلاف رائے پر غصہ ہوتے ہیں، وہ گویا کہ خود فطرت سے لڑنا چاہتے ہیں۔ اور فطرت سے لڑنے والا کبھی بر سر حق نہیں ہو سکتا۔ 25 جنوری 1996 ہندوستان کے ایک معروف عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ تاریخ اسلام پر نظر رکھنے والے ایک طالب علم کی یہ بات سن لیجیے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے اندرونی اختلافات سے شکست کھائی ہے۔ (بانگ درا، لکھنؤ، جنوری 1996)۔ عرب دنیا کے مشہور عالم الشیخ محمد الغزالی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا: اِذَا عَجَزَ الْمُسْلِمُونَ عَنْ الْوِحْدَةِ وَالْاِتِّفَاقِ فَلْيَسُوا أَهْلًا لِلْبَقَاءِ (العالم الاسلامی، مکہ، 17-13 شعبان 1406)۔ یعنی، مسلمان جب اپنے درمیان اتحاد و اتفاق قائم نہ کر سکیں تو وہ اس دنیا میں قیام وبقا کے اہل نہیں رہتے۔ آج تمام دنیا کے مسلمان یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سارے لوگ مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافات کو فتح کر کے متحد ہو جائیں تا کہ وقت کے چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ مگر یہ بات ادھوری ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے متحد ہو جائیں۔ کیوں کہ انسانوں کے درمیان اختلافات کا ختم ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہی کہ اختلافات کو نظر انداز کر کے اتحاد پیدا کیا جائے۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں جو اتحاد تھا وہ اسی طرح تھا اور آئندہ جب بھی اتحاد ہوگا اسی طرح ہوگا۔ اتحاد ہمیشہ صبر کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے، نہ کہ خاتمہ اختلاف کی قیمت پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page