Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

الاحنف بن قیس تابعی حلم و بردباری کے لیے مشہور ہیں۔ لوگوں کی سختیوں کے مقابلہ میں وہ اتنا تحمل کرتے تھے کہ ان کو ابو بحر کہا جانے لگا۔ یعنی سمندر کا باپ۔ وہ عرب کے قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے اور 72 ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ اگرچہ حلم و بردباری میں ضرب المثل بن گئے تھے۔ مگر وہ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ: اِنِّی لَسْتُ بِحَلِیمٍ وَ لَکِنِّی اَتَحَلَّمُ (طبقات ابن سعد، جلد 7، صفحہ 66)۔ یعنی میں بردبار نہیں ہوں بلکہ میں بہ تکلف بردباری اختیار کرتا ہوں۔ تقریباً یہی معاملہ میرا بھی ہے۔ میں گھر سے باہر تک ہر جگہ تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہوں، حتی کہ میں اس کا مشن چلا رہا ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے اندر بے پناہ غصہ ہے۔ اصول کے خلاف معمولی بات پر بھی مجھے غصہ آ جاتا ہے۔ مگر دو چیزوں نے مجھے ٹھنڈا کر رکھا ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ کو تحمل پسند ہے۔ دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا میں یہی واحد قابل عمل روش ہے۔ عدم تحمل کا طریقہ موجودہ دنیا میں سرے سے چلنے والا نہیں۔ 12 جون 1996 جابر بن سلیم ایک صحابی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: لَا تَسُبَّنَّ اَحَدًا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4084)۔ یعنی کبھی کسی شخص کو گالی نہ دینا۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کیا کوئی شخص نارمل حالت میں کسی کو گالی دیتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ گالی کسی کے منھ سے صرف اس وقت نکلتی ہے جب اس کو اشتعال دلایا جائے۔ گالی دراصل جوابی اشتعال ہے۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اشتعال انگیزی کرے تب بھی تم مشتعل نہ ہونا۔ تم اپنے آپ کو منفی ردعمل سے مکمل طور پر بچانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page