Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریک ہمیشہ متحدہ طاقت سے کامیاب ہوتی ہے، اور کسی تحریک کے متحدہ قوت بننے کی واحد شرط یہ ہے کہ اس کے افراد شکایت اور اختلاف سے اوپر اٹھ کر متحد ہونا جانتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اصحاب: بنیان مرصوص ( سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کی طرح متحد ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں اختلاف یا شکایتیں نہ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں بھی ہر قسم کی انسانی شکایتیں موجود تھیں۔ مگر اصحاب رسول نے ان سے اوپر اٹھ کر ہر جہاں میں اپنا اتحاد برقرار رکھا۔ مثلاً غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا دشمنوں کی طرف سے آتے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی ان کو قتل نہ کرے ۔ ابو حذیفہ صحابی نے کہا، کیا ہم اپنے باپ اور اپنے بیٹوں، اپنے پوتوں، اپنے بھائیوں کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں۔ یہ لمبا قصہ ہے جو سیرۃ ابن ہشام (جلد 2، صفحہ 197) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت علی جن کے عقد میں فاطمہ بنت محمد تھیں، انہوں نے بنو مخزوم کی لڑکی سے دوسرا عقد کرنا چاہا تو رسول اللہ نے نہایت سختی کے ساتھ منع کر دیا۔ اس کی تفصیل صحیح مسلم فضائل فاطمہ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2449)۔ دورِ اول میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو جماعت مسلمین میں زبردست اختلاف و انتشار پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ مگر ہر بار ایسا ہوا کہ اصحاب رسول تمام شکایتوں کو پی گئے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے اتحاد کو آخر وقت تک برقرار رکھا۔ موجودہ زمانہ میں خود میرے ساتھ بار بار ایسا پیش ہوا ہے کہ لوگ میرے مشن کے ساتھ جڑے اور پھر معمولی شکایت پیش آنے پر ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم ہوتا اور نہ کوئی بڑا کام انجام پاتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page