تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
مکہ سے نکلنے والا عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (2-13 ربیع الاولا 1417 ھ) کا صفحہ 2 میرے سامنے ہے۔ اس میں ایک مضمون السید علی احمد الصوری کے قلم سے ہے۔ اس کا عنوان ہے : التَّسْبِيلُ إِلَى الْخُرُوجِ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ۔ یعنی ہم جس حالت میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ۔ مضمون نگار کے نزدیک یہ راستہ توحید صفوف ہے۔ یعنی مسلمانوں کے درمیان اتفاق واتحاد۔ یہ بات کم از کم سوسال سے کہی جارہی ہے۔ مگر آج تک مسلمانوں میں اتحاد قائم نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے اتحاد، اتحاد تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتاپاتے کہ اتحاد پر کس طرح قائم رہیں۔ تمام لکھنے اور بولنے والے اتحاد کا راز یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اختلاف کرنا چھوڑ دیں۔ وہ اختلاف کو ختم کر کے اتحاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ ایک ممکن چیز کو ناممکن تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ اختلاف تو خود فطرت میں شامل ہے، پھر اس کو کیوں کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ امت سے کہنے کی اصل بات یہ تھی کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا سیکھو۔ مگر رہنمايان امت لوگوں کو یہ بات بتا نہ سکے۔ پوری کی پوری ملت شعوری طور پر اتحاد کے اس راز سے بے خبر ہے۔ پھر اس کے اندر اتحاد آئے تو کس طرح آئے۔ 26 جنوری 1997 ہندوستان کے لیڈر لوک مانية تلک نے 1944 میں کہا تھا۔ انگلینڈ کی مشکل ہماری آسانی ہے۔ یہی عام طور پر لوگوں کا نظریہ ہے۔ لوگوں کو جس شخص یا قوم سے اختلاف ہو جائے وہ اس کے لیے دشواریاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے سہولت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader