تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
باعث سمجھتے ہیں۔ مگر یہ پالیسی نہایت مہلک ہے۔ یہ ایک بوم رینگ سیاست ہے جو مخالف کو نقصان پہنچانے کے ساتھ خود اپنے لیے بھی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں زیادہ صحت مند سیاست یہ ہے کہ دشمن تمہارے خلاف منفی کارروائی کرے تو تم اس کے مقابلہ میں مثبت کارروائی کرو۔ وہ نفرت کی فصل اگائے تو تم محبت کی فصل اگاؤ۔ تم دشمن کے مقابلہ میں ردعمل کا طریقہ نہ اختیار کرو بلکہ اپنی پالیسی خود اپنی ٹھنڈی سوچ کے تحت بناؤ۔ یہی دوسری پالیسی کی کامیابی کی پالیسی ہے۔ 16 مارچ 1997 مولانا وارث مظہری سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تنقید اور اختلاف کا حق ہر آدمی کو حاصل ہے۔ آپ کسی بھی شخص کے خلاف تنقید کر سکتے ہیں۔ آپ کا ایسا کرنا اپنے جائز حق کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری سنگین حقیقت یہ ہے کہ دلیل سامنے آجانے کے بعد آدمی کو اپنا اختلاف ختم کر دینا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ دلیل کو نہ ماننا گویا خدا کے سامنے سرکشی کرنا ہے۔ ایسا آدمی بلاشبہ خود اپنا نقصان کرتا ہے، نہ کہ دلیل پیش کرنے والے کا۔ 9 مئی 1997 مولانا محمد منظور نعمانی (لکھنؤ) 92 سال کی عمر میں 5 مئی 1997 کو انتقال کر گئے۔ مجھے ان کے افکار و نظریات سے مناسبت نہیں تھی۔ مگر ان کی شخصیت میں ذاتی تجربہ کے تحت میں نے ایک ایسی خوبی پائی جو کسی اور عالم میں مجھے نہیں ملی۔ 15 اپریل 1967 میں لکھنؤ کی مسجد (کچہری روڈ) میں ان سے میری ایک سخت اختلافی گفتگو ہو گئی۔ اس زمانہ میں مولانا منظور نعمانی (1905-1997)، مولانا ابو الحسن علی ندوی (1999-1913)، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (1974-1913) جو مسلم سیاست چلا رہے تھے اس سے مجھے سخت اختلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader