تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ میں نے ڈھائی گھنٹہ تک اس پالیسی پر تنقیدی گفتگو کی مگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے۔ آخر کار میں اٹھا۔ میرا حال یہ تھا کہ میں رو رہا تھا۔ میں نے ان کو رخصتی سلام نہیں کیا۔ صرف یہ شعر پڑھ کر باہر نکل آیا: إِذَا كَانَ الْغُرَابُ رَئِيسَ قَوْمٍ سَيَهْدِيهِمْ إِلَى دَارِ الْبَوَارِ اس سخت تنقید کے باوجود ان کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ میرے بارے میں معتدل رہے۔ بعد کو انہوں نے خود ہی مذکورہ مسلم سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔ 4 جون 1997 حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ بیشک حق لوگوں سے نہیں پہچانا جاتا ہے، بلکہ لوگ حق کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں (إِنَّ الحَقَّ لَا يُعْرَفُ بِالرِّجَالِ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ الرِّجَالُ بِالحَقِ) جامع المسائل لابن تیمیہ، جلد 7، صفحہ 466۔ اسی طرح مولانا رشید احمد گنگولی نے اپنے شیخ طریقت حاجی امداداللہ صاحب پر ایک فقہی مسئلہ پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ شیخ ہم کو محبوب ہیں لیکن حق ہم کو اس سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ 5 جون 1997 دمشق کے مشہور عالم دکتر محمد سعید البوطی (2013-1929) اور دکتر احسان بعدرانی (پیدائش (1947) کے درمیان ایک مباحثہ ہوا۔ دکتر بعد رانی نے کہا کہ فقہ کی تدوین جدید ہونی چاہیے ۔ دکتر البوطی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ فقہ ظاہر ہے کہ قرآن اور سنت ہی سے مستنبط ہوگی اور جب ایسا ہوگا تو وہ محض ایک تکرار ہوگی۔ کیوں کہ قدیم فقہ قرآن وسنت میں سے مستنبط کر کے مدون کی گئی ہے۔ گویا جدید فقہ محض ایک حاصل شدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader