Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔ میں کہوں گا کہ قدیم فقہ عہد عباسی میں مدون کی گئی۔ یعنی عہدِ نبوی، عہدِ خلفائے راشدین، عہدِ نبی امیہ کے بعد۔ اگر عہد عباسی میں مدون کی جانے والی فقہ وہی تھی جو اسلام کے ابتدائی تین عہدوں میں موجود تھی تو وہ محض تکرار تھی اور اگر تکرار اول درست ہو تو تکرار ثانی کیوں کرنا درست قرار پائے گی۔ اور اگر قدیم فقہ اس لیے مدون کی گئی کہ عہد عباسی میں اسلامی معاشرہ کو نئے نئے مسائل پیش آگئے تھے۔ تو دورِ جدید کے مسلم معاشرہ کو اس کے مقام میں ہزار گنا زیادہ نئے مسائل پیش آگئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر پہلی تبدیلی کے موقع پر فقہ کی از سر نو تشکیل و تدوین ضروری تھی تو وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر دوسری تبدیلی کے موقع پر فقہ کی دوبارہ تشکیل و تدوین غیر ضروری ہوگی۔ 6 جون 1997 ابن القیم نے اپنی کتاب مدارج السالکین میں اپنے استاذ شیخ ابن تیمیہ سے اختلاف کیا ہے۔ پھر اپنی اس روش کو درست قرار دینے کے لیے لکھا ہے کہ ہد ہد اور اللہ کے نبی سلیمان کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہے ۔ اس کے باوجود قرآن کے مطابق، ہہد نے سلیمان سے کہا کہ میں ایک ایسی بات جانتا ہوں جو آپ کو معلوم نہ تھی (27:22)۔ چنانچہ شیخ الاسلام اللہ کے نبی سے زیادہ بڑے عالم نہیں ۔ اور شیخ الاسلام پر اعتراض کرنے والا ہد ہد سے زیادہ کم علم نہیں : فکم بَینَ الْهُدْهُدِ وَنَبِیِ اللهِ سُلَیْمَانَ؟ وَ هُوَ یَقُولُ لَهُ: أَحَطْتُ بِما لَمْ تُحِطْ بِهِ (النمل، 22)۔ وَلَیْسَ شَیْخُ الْإِسْلَامِ أَعْلَمَ مِنْ نَبِیِ اللهِ وَلَا الْمُعْتَرِضُ عَلَيْهِ بِأَجْهَلَ مِنْ هُدْهُدٍ (مدارج السالکین، جلد 2، صفحہ 52) ۔ ایک ندوی عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب فکر اسلامی پڑھی۔ اس میں آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page