تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
عصرِ حاضر کے اکابر پر تنقید کی ہے۔ ہم کو تنقید سے اختلاف نہیں مگر آپ تو ہمارے اکابر کی جڑ اکھاڑ رہے ہیں۔ آخر اس کو کس طرح برداشت کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ مذکورہ ندوی عالم نے ایسا کیوں کہا۔ میں نے جن شخصیتوں پر تنقید کی ہے اس میں ان کی نیت، ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، تقویٰ اور دیانت داری پر کوئی تنقید نہیں۔ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ ان حضرات نے موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو نہیں سمجھا اور اس کے مطابق امت کو رہنمائی نہ دے سکے۔ یہ ان کی شخصیت پر صرف ایک جزئی تنقید ہے پھر مذکورہ ندوی عالم نے ایسا کیوں کہا کہ آپ ہمارے اکابر کی جڑ اکھاڑ رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ تنقید کی غلطی نہیں ہے بلکہ اکابر کے معتقدین کی سوچ کی غلطی ہے۔ اگر وہ ان اکابر کو ایمان و اخلاص اور عبادت و تقویٰ کے اعتبار سے اونچا درجہ دیے ہوئے ہوتے تو ان کو میری تنقید پر مذکورہ شکایت نہ ہوتی۔ اس کے بجائے وہ ان اکابر کی حیثیت امتیازی یہ قرار دیتے ہوئے کہ وہ عصرِ حاضر کے مجدد ہیں۔ انہوں نے دورِ جدید کے لحاظ سے امت کو رہنمائی دی۔ اور چونکہ میری تنقید سے ان کی یہ حیثیت امتیازی مشتبہ نظر آئی اس لیے ان کو محسوس ہوا کہ میں ان کی جڑ اکھاڑ رہا ہوں۔ 17 فروری 1998 کسی کا قول ہے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ ہم سب لوگ یکساں سوچ رہے ہوں۔ سوچ میں فرق سوچ میں ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ بلاشبہ نہایت صحیح بات ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی فکری پسماندگی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو پسند نہیں کرتے۔ وہ صرف اتحادِ رائے سے خوش ہوتے ہیں۔ ایسے کسی گروہ کے درمیان کبھی فکری ارتقا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader