Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

برادر محمد خالد عطاء اللہ ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اختلاف اور مشورہ دونوں ایک ہی چیز کے دو الگ الگ نام ہیں جب آپ اختلاف کو کھلے طور پر سنیں اور بشرط صحت اس کو مان لیں تو اسی کا نام مشورہ ہے۔ اور جب آپ اختلاف پر بھڑک اٹھیں اور اس کو ذاتی وقار کا مسئلہ بنالیں تو اس کا نام جھگڑا ہے۔ صحت مند ماحول میں اختلاف یا تنقید مشورہ کی صورت اختیار کرکے عبادت بن جاتا ہے اور جب ماحول غیر صحت مند ہو تو اختلاف یا تنقید صرف باہمی نزاع بن کر رہ جائے گا۔ ایک صاحب نے ایک بات یہ کہی کہ آپ دوسرے اکابر سے کٹ کر اپنا مشن چلا رہے ہیں، آپ کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ آپ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ میں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مل کر کام کرنا چاہا اور آج بھی مل کر ہی کام کرنا چاہتا ہوں مگر اس سلسلہ میں میرے تجربات بے تلخ ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے ایک معروف عالم دین کے ایک قریبی ساتھی سے عین اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں مگر اس سلسلہ میں میری ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ مجھ کو مذکورہ عالم دین سے اختلاف رائے پیش آئے گا۔ ایسے موقع پر میں منافق نہیں بن سکتا۔ میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ مذکورہ عالم دین اگر میرے اظہارِ اختلاف کو برداشت کرسکیں تو میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں مذکورہ عالم دین کے ساتھی نے کہا کہ جب آپ کو حضرت مولانا سے اختلاف ہو تو آپ اس کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو متہم کرلیا کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page